نئی دہلی، 11/مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) این جی او ایج ویل کی طرف سے کئے گئے ایک حالیہ تحقیق، جس میں ہندوستان میں ۱۰؍ ہزار معمر افراد کا سروے کیا گیا ہے، میں ایسی رکاوٹیں پائی گئی ہیں جو معمر افراد کی آبادی کے درمیان صحت کی دیکھ بھال کی باقاعدہ رسائی میں رکاوٹ ہیں، خاص طور پر مالی مجبوریوں اور لاجسٹک چیلنجوں کی وجہ سے۔
اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تقریباً نصف شہری جواب دہندگان(۴۸ء۶؍ فیصد) اور ۶۲؍ فیصد دیہی جواب دہندگان نے ڈاکٹروں کے بے قاعدہ دورے کی وجوہات کے طور پر مالی حدود اور لاجسٹک مشکلات کا حوالہ دیا۔ سروے کی مثالیں آگرہ کے پربھکر شرما جیسے معمر افراد کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں، جنہوں نے کہا کہ گٹھیا کی وجہ سے معمول کے چیک اپ کیلئے اسپتالوں میں جانا مشکل تھا اور لدھیانہ سے راجیش کمار، جنہیں ریٹائرمنٹ پنشن کے باوجود مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ تحقیق میں راجیش کمار نے کہا کہ اگر میرے پاس کچھ میڈی کلیم پالیسی ہوتی تو شاید میں بہتر طبی خدمات کا متحمل ہو سکتا تھا۔
خاندانی حرکیات بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، ۲۴؍ فیصد جواب دہندگان تنہا رہتے ہیں۔
مطالعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت سے متعلق چیلنجز عوامی اور سماجی زندگی میں معمر افرادکی شرکت میں بنیادی رکاوٹ ہیں، جو پسماندگی اور مالی مجبوریوں سے جونجھ رہے ہیں۔ ۳۸ء۵؍ فیصدسے زیادہ جواب دہندگان نے اپنی صحت کی موجودہ حالت کو خراب یا بہت ناقص قرار دیا جبکہ۵۴ء۶؍ فیصد نے مجموعی مالیاتی حالت ناقص یا انتہائی خراب بتائی۔
واضح رہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے۵۱۰؍ رضاکاروں نے اپریل۲۰۲۴ء میں ۲۸؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سروے کیا تھا۔